Allah k Neek Bandy

دریائے نیل میں کشتی چلانے والے ایک ملاح کا بیان ہے کہ:
” ایک دن ایک بہت ہی نورانی چہرے والے بزرگ میرے پاس آئے اور فرمایا کہ کیا تم مجھے اللّہ کے نام پر دریا کے پار اُتار دو گے؟ ”
میں نے عرض کِیا کہ:
” ہاں۔ ”
وہ بزرگ میری کشتی پر سوار ہو گئے اور میں نے انہیں دریا کے پار اُتار دیا۔جب وہ کشتی سے اُترنے لگے تو انہو ں نے مجھ سے فرمایا کہ:
” میں تمہیں ایک امانت سونپتا ہوں۔کیا تم اس کو قبول کرو گے؟ ”
میں نے کہا کہ:
” جی حضور! ضرور قبول کر لوں گا۔ ”
تو انہوں نے فرمایا کہ:
” کل فلاں درخت کے پاس ظہر کے وقت آنا تم کو وہاں میری لاش ملے گی۔تم مجھ کو غسل دینا اور میرے سرہانے جو کفن تم کو ملے اس کو مجھے پہنا کر اُسی درخت کے نیچے دفن کر دینا اور میری گدڑی اور عصا اور مشک کو اپنے پاس رکھنا اور جو شخص ان تینوں چیزوں کے طلب کرنے کے لیے تمہارے پاس آئے اُس کو یہ سب سامان دے دینا۔ ”
ملاح کا بیان ہے کہ:
” میں ان بزرگ کی وصیت کو بھول گیا اور بجائے ظہر کے عصر کے وقت مجھے خیال آیا تو میں اُس درخت کے پاس حاضر ہُوا تو واقعی ان بزرگ کو مُردہ حالت میں پایا۔میں نے وصیت کے مطابق ان کو کفن پہنایا۔اُس میں مُشک کی خوشبُو آ رہی تھی۔میں نے جونہی ان کا جنازہ تیار کِیا۔ایک دم ناگہاں ایک طرف سے انسانوں کی ایک بہت بڑی جماعت آ گئی اور میں نے ان لوگوں کے ساتھ نمازِ جنازہ ادا کر کے اُسی درخت کے نیچے دفن کر دیا اور اپنے گھر آ کر رات میں سو رہا۔ ”
صبح سویرے ہی ایک جوان جو ناچنے گانے والے بھانڈ کا لڑکا تھا۔میرے پاس آیا،نہائیت ہی باریک کپڑے پہنے ہوئے ہاتھوں میں مہندی لگی ہوئی اور بغل میں ستار دبائے میرے سامنے کھڑا ہو گیا اور میں نے اُس کے سلام کا جواب دیا۔پِھر اُس نے مجھ سے دریافت کِیا کہ:
” فلاں بِن فلاں تم ہی ہو؟ ”
میں نے جواب دیا کہ:
” ہاں! میں ہی ہوں۔ ”
اُس نے کہا کہ:
” پِھر جو تمہارے پاس میری امانت ہے مجھے دے دو۔ ”
میں نے حیران ہو کر پوچھا کہ:
” تمہیں اس کی خبر کیوں کر ہو گئی؟ ”
اُس نے کہا:
” یہ نہ پوچھیے۔ ”
میں نے کہا:
” تم کو بتانا ہی پڑے گا۔ ”
میرا اصرار سُن کر اُس نے کہا کہ:
” بھائی! میں اس کے سِوا کچھ نہیں جانتا کہ گزشتہ رات ایک شادی میں ساری رات ناچتا اور گاتا رہا۔جب صبح کو اذانِ فجر ہوئی تو میں ناچ ختم کر کے سو گیا۔اچانک ایک شخص میرے پاس آیا اور مجھ کو جھنجھور کر کہا کہ اللّہ تعالیٰ نے فلاں ولی کو وفات دے دی ہے اور تجھ کو اس کا قائم مقام بنا دیا ہے۔لہٰذا تُو فلاں ملاح کے یہاں جا کر اُس وفات پا جانے والے ولی کے تبرّکات وصول کر لے۔جن کو وہ بزرگ تیرے لیے بطورِ امانت ملاح کے پاس رکھ کے دنیا سے تشریف لے گئے ہیں۔ ”
ملاح نے بیان کِیا کہ:
” میں نے ان بزرگ کی تینوں چیزیں حسبِ وعدہء وصیت بھانڈ لڑکے کو دے دیں۔لڑکے پر سامان ہاتھ میں لیتے ہی ایک انقلابی کیفیت نمودار ہو گئی۔ ”
اس نے باریک کپڑوں کو اُتار کر میری کشتی میں پھینک دیا اور کہا کہ:
” تم میرے ان کپڑوں کو جیسے چاہو بطور صدقہ دے دینا اور خود اُن بزرگ کی گدڑی پہن کر اور عصا،مشک لے کر چل دیا۔ ”
ملاح کا بیان ہے کہ:
” میں اس بھانڈ کے لڑکے کی خوش نصیبی اور اپنی محرومی کا خیال کر کے رونے لگا۔یہاں تک کہ رات آ گئی اور میں روتے روتے سو گیا۔ ”
مجھے اس رات خواب میں اللّہ جل مجدہ کا دیدار ہُوا اور مُجھ سے ربّ العزت جل جلالہ نے ارشاد فرمایا کہ:
” تم پر یہ گِراں گُزرا؟ کہ میں نے اپنے ایک گنہگار بندّے پر احسان فرما کر اس کو اپنے دربار کی طرف رجوع کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔اے ملاح! یہ میرا فضل ہے اور میں اپنا فضل جسے چاہتا ہوں عطا فرما دیتا ہوں۔ ”

( مستطرف،جِلد1،صفحہ 147 )

نام کتاب = روحانی حِکایات ( حِصّہ دوم )
صفحہ = 226،227
مصنف = حضرت مولانا عبدالمصطفیٰ اعظمی رحمتہ اللّہ علیہ
انتخاب نورسحر💥

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *