Hearing Dancing Bismill & Dhammala

سماع ـ رقصِ بسمل ـ دھمال🥀
اِن سب کا تعلق وجد کے ساتھ ہے۔ وجد ایک باطنی کیفیت ہے جو طالب و مطلوب کے درمیان ہوتی ہے۔
ذکر اللہ ، ذکرِ رسول آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم اور ذکرِ اولیاء اللہ کرنے اور سننے سے وجد کی کیفیت طاری ہوتی ہے۔

یہ کیفیت جن پر طاری ہوئی اُن میں سے کسی نےتو اپنا گریبان چاک کر ڈالا، کوئی اُٹھ کے ناچ پڑا،
کوئی زمیں پر گرا اور ماہی بے آب کی طرح تڑپا،
اور کسی نے اِسی کیفیت میں تڑپتے تڑپتے جان دے دی۔
وجد کے بعد کی کیفیات دیکھتے ہوئے کسی نے اِسے رقصِ بسمل کا نام دیا ۔
کسی نے اِسے سماع کہا کسی نے اِسے دھمال کا نام دے دیا۔

ارشاد ربانی ہے کہ
”مومنین کاملین وہ ہیں کہ جب اللہ تعالٰی کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل لرزنے لگتے ہیں ان پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے”

آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے
“اللہ کا ذکر اِس کثرت سے کرو کہ لوگ تمہیں دیوانہ (پاگل) کہنے لگیں”

اللہ تعالیٰ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دیگر اللہ والوں کے عشق و محبت کی باتیں سن کر کچھ لوگوں پر حال طاری ہوجاتا ہے۔۔۔ جذب کی کیفیت آجاتی ہے۔۔۔ یہ کیفیت انسانوں پر ہی نہیں بلکہ حیوانوں اور جمادات و نباتات پربھی ہے۔

حضرت داود علیہ السلام کا یہ معجزہ تھا کہ جب وہ خود ذکر کرتے تھے تو پہاڑ اور طیور بھی ان کا ساتھ دیتے تھے۔گویا کہ آپ علیہ سلام کا ذکر سن کر پہاڑ وجد میں آجاتے اور جذب و مستی میں جھوم اُٹھتے۔

حضرت سیدنا شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی قطب ربانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے وجد کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا۔
’’روح اللہ عزوجل کے ذکر کی حلاوت میں مستغرق ہو جائے اور حق تعالیٰ کے لئے سچے طور پر غیر کی محبت دل سے نکال دے ”
بهجة الاسرار، ذکرشي من اجوبته ممايدل علي قدم راسخ، ص۲۳۶)

محبوب سبحانی سید شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ کے عمدہ وعظوں کی تاثیر سے کئی افراد کا بے خود ہوکر بے ہوش ہو جانا واقعات سے ثابت ہے۔

سید الطائفہ جنید بغدادی قدس اللہ سرہ سے منقول ہےسلیم سانپ کے ڈ سے ہوئے کو کہتے ہیں- جو کوئی سانپ ڈسے وہ بے چینی اور اضطراب میں رہتا ہے- ۔پس سلیم دل ہمیشہ بے قرار رہتا ہے۔
آپ رحمتہ اللہ سے پوچھا گیا کہ کچھ لوگ وجد کرتے ہیں اور اِدھر اُدھر جھکتے ہیں آپ نے فرمایا ”
انہیں چھوڑ دو وہ اللہ تعالٰی کے ساتھہ خوش ہیں، یہ وہ لوگ ہیں کہ طریقت نے ان کے جگر کاٹ دیے ہیں انکے دل پھٹ گئے ہیں اور اب وہ بے حال ہوگئے ہیں، اگر وہ اپنے حال کی امداد کےلئے حرکت کریں تو کوئی حرج نہیں”

ایک مرتبہ حضرت جنید، حضرت محمد بن سیریں اور حضرت ابو العباس بن عطار رحمتہ اللہ ایک جگہ جمع تھے۔قوال نے چند اشعار گائے۔دونوں باہم وجد کرنے لگے اور جنید ساکن بیٹھے رہے۔وہ کہنے لگے اے شیخ اس سماع میں آپ کا کوئی حصہ نہیں ہے؟ حضرت جنید نے اللہ تعالی کا قول پڑھا

”تم ان کو جامد و ساکن خیال کرتے ہو حالانکہ وہ گزرنے والے بادلوں کی مانند گزر جاتے ہیں ”
سورہ النمل88۔۔عشق شاہ کے نادعلی مستم۔۔۔

پھر وجد میں آجائیں گےدروبام نگاہ نم

گر رقص میں جھوم اٹھے دیوانہءمستم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *