Namaz ma insan ka zekar

نماز میں سارا ذکر انسان کا ہے ، الحمداللہ رب العالمین الرحمن الرحیم مالک یوم الدین یہ اللہ کی تعریف ہو گئی ،
پھر ایاک نعبد و ایاک نستعین اھدنا الصراط المستقیم یہ درخواست ہو گئی انعام والے لوگوں کے راستے کی _ صراط الذین انعمت علیھم یہاں انسانوں کا ذکر آگیاہے ۔
پہلے خدا تھااور اب کیا ذکر آگیا ؟ انسان!
تو انعمت علیھم والے بندے ڈھونڈے جائیں کہ یہ کون انسان ہیں !
یعنی کہ آدمیوں کی راہ ، خدا کی راہ ہے ۔

خدا کہتا ہے کہ میرا راستہ ، ان انسانوں کا راستہ ہے جن پر میرا انعام ہوا یعنی انعمت علیھم ۔
پھر غیر المغضوب علیھم اور وہ لوگ بھی ہیں جن پر اُس کا غضب ہوا ۔ اور اس کے بعد التحیات شروع کر دو التحیات اللہ والصلوٰت والطیبات السلام علیک ایھاالنبی ۔۔۔
تو نماز میں اللہ کے ساتھ حضورپاکﷺ کا ذکر ہو رہا ہے ۔ وہ لوگ کہیں گے کہ نماز اللہ کی ، اور ذکر غیر اللہ کا ۔ مگر یہ غیر نہیں ہے ، بلکہ یہی نماز ہے ۔ کہ السلام علینا وعلیٰ عباد اللہ الصالحین ۔
اور اب نماز میں عباد الصالحین ، نیک بندے بھی شامل ہو گئے ۔

اپنا بھی احترام تیری بندگی کے ساتھ

یہ کئی بندے ہونگے جنہیں صالحین کہا جا سکتا ہے ۔
اشھدان لا الہ اللہ واشھدان محمداً عبدہ ورسولہ

یہاں پھر ایک بار حضورپاکﷺ نام آگیا ۔ اور یہ نماز کے اندر آیا ہے ، یعنی کہ خدا کی نماز میں انسان کا نام ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟
الھم صل علی محمد و علی اٰل محمد ۔
یہ اٰل محمد کیا ہے ؟ یہ بھی انسان ہیں ۔ کما صلیت علی ابراھیم وعلی اٰل ابراھیم انک حمید مجید
حضرت ابراھیمؑ انسان اور آپ کی اٰل انسان ۔
الھم بارک علی محمد و علی آل محمد کما بارکت علی ابراھیم وعلی آل ابراھیم انک حمید مجید

یہ سارا انسان کا ذکر ہے ۔ پھر
رب اجعلنی مقیم الصلوٰة و من ذریتی ربنا و تقبل دعا ۔

تو اس میں آپ اور ذریّت ، اور اولاد سارے آگئے ۔ بیٹے بیٹیاں ، نواسے نواسیاں ، پوتے پوتیاں ۔ سارے آگئے ۔

کیونکہ پندرہ بیس سال میں آپکی ذریّت کچھ اور بن جائےگی ۔

اور کبھی آپ سوچو کہ اگر دو سو سال بعد آپ واپس آؤ تو آپ کی ذریّت جو ہے وہ کم از کم ایک شہر بنائے بیٹھے ہونگے ۔

اور اگر پانچ سو سال بعد آ جاؤ تو آپکی ذریّت میں لاکھوں کروڑوں بندے ہونگے ۔
تو ذریّت ، اولاد بڑھتی جائے گی ۔

ربنا وتقبل دعاء ربنا اغفرلی ولوالدی وللمومنین یوم یقوم الحساب ۔
میرے رب میری دعا قبول فرما، تُو مجھے بھی معاف کر اور میرے والدین کو بھی معاف فرما اور والدین کے اوپر جو قبیلہ ہے ، ان سب کی مغفرت فرما ۔

تو نماز میں آپ خدا کی بات کر رہے تھے اور یہ غیر کہاں سے آگئے ؟ تو غیر کا ذکر اللہ کریم نے آپ کو سکھایا ہے ۔

بس یہی خاص بات ہے اور یہی راز ہے کہ آپ عبادت میں داخل ہو جائیں ۔
اور عبادت کے یہ الفاظ ہیں جو اللہ نے آپ کو سکھائے ہیں کہ یااللہ ہمارے والدین کو بخش دے ۔

تو بات یہ ہے کہ اللہ نے خود آپکو الفاظ سکھا کر بتایا ہے کہ تم والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ۔

پھر یہ دعا سکھائی کہ میری اولاد کو بھی نماز کا پابند بنا ۔

تو آپ نے خود ان کو نماز کا پابند بنانا ہے مگر آپ اللہ سے مدد مانگتے ہیں اور حضورپاکﷺ کے حوالے سے مدد مانگتے ہیں ۔

جو کچھ بتایا گیا ہے آپ ، وہ کام کریں۔ اسی کو آپ نے کرنا ہے اور یہی بات میں آپ کو بتا رہا رہا تھا۔
یہ نہ کرنا کہ اللہ سے یہ کہو کہ

اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم
کہ جن پر تیرا انعام ہوا انکا راستہ دکھا اور جب ، اس انعام والا شخص ملے ، تو آپ اسے نماز کے آداب سکھانے لگ جاؤ ، حالانکہ وہ انعمت علیھم والوں میں شامل ہے ۔ اور اس پر اللہ کا انعام ہو گیا ہے ۔
تو اب آپ بھی وہ راستہ ڈھونڈو اور آپ اس کو قرآن نہ سکھانا شروع کر دینا ، کیونکہ وہ تو آپ کے لئے راستہ بن کر آگیا ہے ۔

تو اللہ کی راہ کون سی ہے ؟ انسانوں کی راہ ، کون سے انسان ؟
جن پر اللہ کا انعام ہوا ۔ تو آپ اس راز کو دریافت کرو ۔

حضرت واصف علی واصف ؒ
( گفتگو 10/ صفحہ: 250 تا 252 )

Leave a Reply